ذوق و شوق

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کمال اشتیاق، جوش اور لگن۔ "یہ ذوق و شوق قضا و قدر کی طرف سے ہر انسان کےلیے ایک انعام ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١١٦ ) ٢ - وجدانی کیفیت، وجد کا عالم۔ "کرنل صاحب پر بھی ذوق و شوق طاری ہو گیا یہاں تک کہ کمرہ میں تنہا بیھٹے رویا کرتے۔"      ( ١٩٨٤ء، تذکرۂ غوثیہ، ٣٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'ذوق' کو حرف عطف 'و' کے ذریعے اسی زبان سے مشتق ایک دوسرے اسم 'شوق' کے ساتھ ملانے سے مرکب عطفی بنا۔ جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩١٩ء کو "جویائے حق" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کمال اشتیاق، جوش اور لگن۔ "یہ ذوق و شوق قضا و قدر کی طرف سے ہر انسان کےلیے ایک انعام ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١١٦ ) ٢ - وجدانی کیفیت، وجد کا عالم۔ "کرنل صاحب پر بھی ذوق و شوق طاری ہو گیا یہاں تک کہ کمرہ میں تنہا بیھٹے رویا کرتے۔"      ( ١٩٨٤ء، تذکرۂ غوثیہ، ٣٥ )

جنس: مذکر